الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوہ کا جبراً نکاح

سوال

ایک بیوہ عورت کا نکاح زبر دستی ایک نابالغ سے کر دیا گیا بغیر اس کی رضا مندی کے اور اس کا نشانی انگوٹھا بھی درج کر لیا مگر وہ یہ کہتی رہی کہ مجھ کو ساری کو بھی نہ لگا لوتب بھی اس کے یہاں نہ رہوں گی۔ پھر اسی کے مکان پر ایک سال گذر بسر کرتی رہی کیوں کہ بیوہ اسی کے بھائی کی عورت تھی یعنی جس کے ساتھ نکاح ہوا جنھوں نے جبر نکاح کیا تھا انھوں نے اپنی رضاء سے دوبارہ نکاح کر دیا جہاں وہ رضا مند تھی۔

جواب

اگر نکاح کے بعد بھی اس نے انکار کر دیا تھا اور وہ راضی نہ تھی تو وہ نکاح صحیح نہیں ہوا تھا اور پھر جس جگہ اس کی رضامندی سے نکاح ہوا ہے وہ صحیح اور درست ہے اور اگر نکاح ہو جانے پروہ رضامند ہوگئی تھی تو نکاح صحیح اور لازم ہو گیا تھا۔ پھر دوسری جگہ جو نکاح ہوا وہ صحیح نہیں ہوا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو