الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بالغہ کا نکاح جبراً

سوال

ایک بالغ لڑکی کا نکاح اس کے باپ نے اس کی مرضی کے بغیر زید سے کر دیا ہے اور نکاح سے قبل لڑکی زید کے یہاں جانے سے انکار کرتی رہی اور نکاح کے بعد بھی رخصتی کے وقت اس نے صراحت کے ساتھ کہا کہ میں زید کے ساتھ نکاح نہیں کرنا چاہتی۔ لیکن جب والد صاحب نے بالجبر اس کو گھر سے رخصت کرنا چاہا تو وہ صدمہ سے بے ہوش ہو گئی اور اسی حالت میں اس کو زید کے یہاں بھیجدیا گیا۔ لڑکی دینی تعلیم یافتہ اور پابند شرع ہے اور زید اور اس کا گھرانہ جاہل ہے بلکہ شریعت کے استہزاء وتمسخر کا عادی ہے۔

جواب

جب یہ ظلم وستم بارہ تیرہ سال سے ہورہا ہے اور تین بچے بھی ہو چکے ہیں، تو اتنی مدت تک مسئلہ کیوں دریافت نہیں کیا۔ حرام وحلال کی اہمیت کا تقاضا یہ تھا کہ جب اس قسم کا نکاح کیا گیا تو فورا دریافت کیا جاتا کہ یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟ لڑکی کو رخصت کرنا حلال ہے یا حرام ہے؟ اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر شوہر کوزبردستی اس پر مسلط کرنا جائز ہے یا معصیت ہے؟

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو