جبراً اقرار نکاح
سوال
مسماۃ راحت النساء اپنی پھوپھی کے گھر گئی تھی۔ کچھ لوگ وہاں پہنچے اور لڑکی سے کہا کہ تمہارے والد تم کو فلاں جگہ بلاتے ہیں۔ لڑکی ان کے ساتھ چلی۔ راستہ میں ایک جنگل میں ان لوگوں نے لڑکی سے کہا کہ تم اقرار کرو کہ تمہارا عقد فلاں کے ہمراہ کر دیا گیا۔ اگر تم اقرار نہیں کرتی تو ہتھیار دکھلا کر کہا کہ تم کو ختم کر دیا جائے گا۔ لڑکی نے جان کے خوف سے ہاں کر دی اور عقد ہو گیا۔ پھر لڑکی کسی طرح بہانہ کر کے وہاں سے بھاگ کر آ گئی۔ اب وہ نکاح ہو گیا تھا یا نہیں؟ لڑکی نہ پہلے راضی تھی نہ اب راضی ہے۔
جواب
لڑکی پر یہ بہت بڑا ظلم ہوا۔ ایسا کرنے والے سب لوگ سخت گنہگار ہوئے۔اس کے با وجود یہ نکاح منعقد ہو گیا۔ لڑکی صبر کرے اور منتظر رہے کہ ظالموں پر کیسا وبال آتا ہے۔ اگر برداشت نہیں کر سکتی تو کسی طرح خوشامد کر کے مہر معاف کر کے طلاق لے لے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔