الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حمائل پر ہاتھ رکھ کر اقرار سے نکاح نہیں ہوتا

سوال

میرا نام زہرہ خاتون ہے والد کا نام نذیر محمد خاں ہے۔ ساہوا گاؤں ضلع چورو کی رہنے والی ہوں۔ میری ایک بڑی بہن مقصودہ بانو ہے جو میری ہی طرح طلاق کے بعد تعلیم حاصل کر کے رتن گڑھ میں ملازم ہے۔ ہم دونوں بہنوں کی شادی ایک ساتھ ہوئی تھی اور ۱۴/ ۱۵/ سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ ہم دونوں سسرال پہونچ گئیں، دونوں آٹھویں اور دسویں پاس تھیں۔ ہم لوگ گاؤں اور پچھڑے ہوئے قصبے میں پلے ہیں، نہ ہم میں اسلامی شعور تھا اور نہ ہم مذہب کی الف ب سے واقف تھے صرف کلمہ طیبہ آتا تھا۔

جواب

اگر پہلے شوہر کے طلاق دینے کے گواہ موجود ہیں یا خود شوہر کو طلاق کا اقرار ہے اور اس اقرار کے گواہ ہیں تو طلاق واقع ہو گئی۔ وقت طلاق سے تین مرتبہ ماہواری آنے پر عدت ختم ہو گئی ہے اور دوسرے نکاح کا آپ کو حق ہو گیا ہے لیکن حمائل شریف ہاتھ میں رکھ کر دونوں کا عہد کر لینا کافی نہیں بلکہ گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول لازم ہے بغیر اس کے نکاح نہیں ہوتاہے واجد حسین خانصاحب کے ساتھ جو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو