برہمن سے نکاح پڑھوانا
سوال
مولوی احمد رضا خاں صاحب نے لکھا ہے کہ اگر برہمن نکاح پڑھا دے تو جائز ہے کہ نکاح نام ہے ایجاب وقبول کا۔ کیا یہ درست ہے؟
جواب
جو شخص نکاح پڑھاتا ہے وہ شرعی قاضی نہیں، لہذا اس میں قاضی کی شرائط کا پایا جانا ضروری نہیں۔ وہ شخص محض ایجاب وقبول کی تعبیر کرتا ہے۔زوجین خود گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول کر لیں تو نکاح صحیح ہو جاتا ہے۔ جواب صحیح ہے: غیر مسلم کے ایجاب وقبول نکاح کر دینے سے اگر چہ حقیقۂ نکاح منعقد ہو جاتا ہے مگر ایسا کرنا سخت بے غیرتی اور سنت متوارثہ کے خلاف ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔