الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شیعہ وغیرہ سے نکاح پڑھوانا

سوال

اگر اہل سنت والجماعت کا نکاح کوئی شیعہ یا غیرمسلم پڑھ دے یعنی خطبہ وایجاب وقبول کوئی شیعہ یا غیر مسلم کرائے تو یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ مثلاً زید کا نکاح اس طرح پر ہوتا ہے کہ زاہد شیعہ نکاح خواں ہے۔ عمر وبکر لڑکی کی طرف سے گواہ ہیں۔ زاہد عمر وبکر سے دریافت کرتا ہے کہ انکا کیا بیان ہے۔ وہ (عمر وبکر) بیان کرتے ہیں کہ فلاں لڑکی اور فلاں کی بیٹی اتنے مہر پر زید کے نکاح میں دی زاہد (نکاح خواں) زید سے دریافت کرتا ہے کہ آپ کو قبول ہے۔ یہ اقرار کرتا ہے کہ اس اقرار کے بعد زاہد خطبہ پڑھتا ہے۔ زید اورلڑکی بالغ ہیں۔

جواب

اصل ایجاب وقبول شوہر اور بیوی نے کیا۔ کوئی شیعہ یا غیر مسلم محض خطبہ پڑھے یا اس ایجاب وقبول کی تصدیق زوجین سے کرے تو اس سے نفس نکاح میں کوئی خرابی نہیں آتی ہے تاہم مستحب اور بہتر یہی ہے کہ کسی دیندار صالح آدمی سے خطبہ پڑھوایا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو