نکاح کا اعلان
سوال
بوقت نکاح اعلان کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر بارات کے آدمی کثرت سے موجود ہوں پھر بھی ضروری ہے یا نہیں؟ اور کس چیز سے شریعت میں اعلان کرنا جائز ہے؟ ہمارے یہاں رواج ہے کہ شادی میں گانے بجانے کے ساز وباز جو برات مروج ہے، ان سے اعلان کرایا جاتا ہے یہ درست ہے یا نہیں؟
جواب
نکاح کا اعلان مندوب ہے ويندب أعلانه اھ در مختار ص ۴۰۴/ ج ۲ / اعلان اھ کے لئے بوقت عقد محض دف بجادینا کافی ہے اور طریقہ مروجہ پر ساز وغیرہ بجانا جیسا کہ سوال میں درج ہے جائز نہیں۔ وكره كل لهو أى كل لعب وعبث فالثلاثة بمعنى واحد كما في شرح التاويلات والأطلاق شامل لنفس الفعل وأستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والضنج والبوق…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔