مقررہ امام نے نکاح دوسرے کے ذریعہ پڑھوایا
سوال
ہمارے یہاں جامع مسجد کے پیش امام صاحب نکاح وجنازہ کی نماز پڑھاتے ہیں۔ چنانچہ ایک آدمی دو پہر بعد آیا اور کہا کہ شام ۴ بجے تشریف لائیں نکاح ہوگا۔ امام صاحب احتیاطاً ایک آدمی کو ساتھ لیکر چلے، کیونکہ رات کو واپس آنا تھا۔ اندھیری رات ہے۔ وہ لوگ بھی سواری لئے منتظر تھے۔ دونوں آدمی سواری میں بیٹھ کر وہاں مغرب میں پہنچے پھر وہ لوگ اپنے گھر لے گئے۔ معلوم ہوا یہاں مسجد بھی ہے، امام بھی موجود ہیں، ہمارے امام کو شک ہوا کہ یہ نکاح کیسا ہے؟
جواب
اگر امام صاحب نے تحقیق کر لی اور فتوی دیکھ لیا کہ یہ نکاح صحیح ہے۔ پھر اپنے ساتھی سے کہ دیا کہ تم نکاح پڑھا دو۔ ساتھی نے پڑھا دیا۔ تب بھی امام صاحب پر اعتراض کرنا بیجا ہے اور غلط ہے۔ کسی مصلحت سے آدمی خود نکاح نہ پڑھے دوسرے سے پڑھوا دے تو یہ بھی درست ہے، کوئی اعتراض کی بات نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔