الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خطبہ نکاح کھڑے ہوکر

سوال

ہمارے شہر میں ایک امام صاحب تشریف لائے ہیں اور خطبہ نکاح کھڑے ہوکر پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کھڑے ہو کر پڑھنا مسنون ہے۔ اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے جتنے خطبے دیئے ہیں وہ سب کھڑے ہو کر دیئے ہیں جب کہ خطبہ نکاح حدیث میں کہیں بھی بیٹھ کر دینا ثابت نہیں ہے۔ تو کیا کھڑے ہو کر خطبہ نکاح دینے کا جواز ملتا ہے؟ کیا خطبہ نکاح خطبہ جمعہ واستسقاء کے مشابہ ہے؟

جواب

جائز تو کھڑے ہو کر بھی پڑھنا ہے، بیٹھ کر پڑھنا بھی ہے۔ جو شخص کھڑے ہو کر خطبہ نکاح کو پڑھنا مسنون کہے دلیل اس کے ذمہ ہے، وہ حدیث وفقہ سے ثبوت پیش کرے۔ متعدد مواقع پر حدیث شریف میں منقول ہے کہ حضرت نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے بیٹھ کر خطبہ پڑھا ہے۔ مسلم شریف کے الادب المفرد میں حدیثیں موجود ہیں۔ شراح نے اس جگہ لکھا ہے کہ یہ خطبہ جمعہ نہیں تھا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو