نکاح میں خدا اور رسول اور فرشتوں کو گواہ بنانا
سوال
فتاوی عالمگیری جلد ۲ ص ۸۳۳ کہ اگر کسی نے نکاح میں خدا اور رسول کو گواہ بنایا اور اس طرح کہا کہ میں نے خدا اور رسول اور فرشتوں کو گواہ بنایا۔ تو کافر ہو جائے گا اور اگر اس نے کہا کہ دائیں اور بائیں ہاتھ کے فرشتوں کو گواہ بنایا تو کافر نہیں ہوگا۔ دونوں میں کیا فرق ہے؟
جواب
فتاوی عالمگیری کی عبارت مسئولہ یہ ہے۔ رجل تزوج امرأة ولم يحضر الشهود وقال خدا اور رسول را گواه کردم وفرشته دست وچپ را گواه کردم لا يكفر كذا في الفصول العمادية عالمگیری مصرى ۲۶۶/ ج ۲ كتاب السير الباب التاسع في احكام المرتد. اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر جگہ، ہر وقت حاضر وناظر ہونا اللہ تعالیٰ کی صفت خاصہ ہے، کسی اور فرشتہ یا پیغمبر کے لئے بھی یہ ثابت کرنا درست نہیں بلکہ شرک ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔