خدا اور رسول کو گواہ بنا کر نکاح
سوال
زید ایک بیوہ عورت کو لے کر وطن سے دوسری جگہ دور چلا گیا اور وہاں پہنچ کر بیوہ عورت نے زید سے راضی خوشی میں کہا کہ میں بعوض ۳۰۰ روپیہ مہر پر آپ کے نکاح میں آنا منظور کرتی ہوں۔ زید نے خدا اور رسول کو گواہ قرار دے کر بعوض ۳۰۰ / روپیہ مہر پر بیوہ عورت کو قبول کیا۔ (منظور کر لیا) نکاح کے وقت زید اور بیوہ عورت ان دونوں فرد کے سوا اور دوسرا کوئی فرد نہیں تھا اور دونوں ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنے لگے۔ کچھ عرصہ بعد اس سے بچہ پیدا ہوا۔ بچے کو حلالی قرار دیا جائے گا یا حرامی؟ زید کا نکاح ہوایا نہیں؟
جواب
اس طرح نکاح کرنے سے نکاح نہیں ہوتا۔ انعقاد نکاح کے لئے دومردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کا مجلس عقد میں بطور گواہ ایجاب وقبول سننا ضروری ہے۔ تنہائی میں نکاح نہیں ہوتا۔ خدا اور رسول کو گواہ بنا کر نکاح کرنے سے ایک قول پر ایمان سلامت نہیں رہتا۔ کتب فقہ فتاوی قاضی خاں وغیرہ میں لکھا ہے کہ اس طرح نکاح کرنے سے آدمی ایمان سے خارج ہو جاتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔