اللہ کی گواہی سے نکاح منعقد نہیں ہوتا
سوال
عنایت اللہ نے ایک غیر مسلم شادی شدہ عورت سے ناجائز تعلق پیدا کر لیا اور اس کو اپنے گھر لے آئے۔ لوگوں کے دریافت کرنے پر کہا کہ میں نے اس کو مسلمان کر لیا ہے اور نکاح کر لیا ہے لال محمد نے نکاح پڑھایا جو مر چکے۔ گواہ اللہ میاں تھے۔ ایسی صورت میں یہ نکاح ہوا یا نہیں؟
جواب
اگر عورت مسلمان ہونے کا اقرار کرتی ہے تو وہ مسلمہ ہے لیکن وہ عنایت اللہ کی بیوی نہیں۔ عنایت اللہ کا نکاح اس سے منعقد نہیں ہوا۔ ولا ینعقد نكاح المسلمين الا بحضور شاهدين حرین عاقلين بالغین مسلمین رجلين او رجل وامرأتين. (هدایه ص ۳۸۶ ج ۲ نکاح کے لئے دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورت کا موجود ہونا ضروری ہے۔ صرف اللہ میاں کی گواہی صحت نکاح کے لئے کافی نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔