الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح میں گواہ

سوال

ایک مرد اور ایک اجنبیہ عورت میں تعلق قائم ہوا۔ جب ایک مرتبہ لڑکی کا خط پکڑا گیا تو تعلق ظاہر ہوا۔ اب لڑکی کہتی ہے کہ میری شادی ۱۵؍ رمضان رات میں بارہ بجے ہو چکی ہے۔ میرے باپ اور بھائی گواہ ہیں، تو اس کا نکاح ثابت ہوگا یا نہیں؟

جواب

اگر والد اور بھائی کے سامنے نکاح کا ایجاب وقبول ہوا تو یہ بھی صحت نکاح کیلئے کافی ہے۔ دوسرے لوگ اب تجسس نہ کریں، دونوں کی گواہی پر اکتفاء کریں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو