الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح کے لئے گواہ کم از کم کتنے ہوں؟

سوال

(۱) اگر کوئی مقام کفرستان ہو اور مسلمان دور دراز فاصلہ پر ہوں محض ایک ہی مسلمانوں کا گھر ہو نیز لڑکی جوان العمر عاقلہ بالغہ ہو اور لڑکا بھی جوان ہو وہ ہر دور وبرو ایک مرد اور ایک عورت کے اپنا نکاح کر لیں۔ مجبوری ومسلمان نہ ہونے واندیشہ نیز حرام سے بچنے کی غرض سے کیا نکاح جائز ہے؟ (۲) ہر دو گواہاں مرد وعورت کے ہمراہ ایک لڑکی مسلمان چودہ سالہ جس کو کئی مرتبہ حیض آچکا ہے وہ بھی بوقت نکاح موجود ہوتی ہے کیا لڑ کی کی شہادت از روئے شرع معتبر ہے حضرت مولانا حافظ محدث اشرف علی تھانوی نے تحریر فرمایا ہے کہ ہر دو استفتاء…

جواب

(۲،۱) حنفیہ کے نزدیک ایجاب وقبول کم از کم دو عاقل مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کے سامنے ہونا ضروری ہے ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی سے نکاح منعقد نہیں ہوتا اگر ایک مرد اور دو عورتوں نے ایجاب وقبول نکاح با قاعدہ سنا ہے تو ان کی شہادت معتبر ہے اور چودہ سالہ لڑکی کی جب کہ وہ بالغہ ہے شہادت معتبر ہے۔ (۳)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو