بغیر کلمہ پڑھائے نکاح
سوال
مؤرخہ ۱۵ جون ۱۹۸۶ء کومحمدمحمود ولد علی کی شادی مقرر تھی جس میں میرے والد کو نکاح خوانی کے لئے جانا تھا لیکن بوجہ بزرگی وہ نہ جا سکے۔ بندہ گھر پر موجود تھا۔ مجھے انھوں نے کہا کہ آپ جا کر نکاح کر آئیں۔ بندہ ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے چلا گیا وہاں ڈھول وغیرہ گانے بجانے کے لئے آئے ہوئے تھے جو کہ مجھے دیکھ کر جانے لگے۔ میں نے دیکھا کہ ڈھول بج رہا ہے اور ۵/۴ سال کے بچے ڈانس کر رہے ہیں۔ بڑا دکھ ہوا کہ مسلمان کا بچہ جب بسم اللہ پڑھتا ہے تو خداوند تعالیٰ اس کے ماں باپ کو بخش دیتے ہیں اور آج یہ بچے شیطان کے شیدائی بنے ہیں۔
جواب
بے علمی اور جہالت کی باتیں پڑھ کر بہت افسوس ہوا کہ مسلمان کلمہ اور صفت ایمان سے بھی واقف نہیں۔ پھر اور مسائل کا کیا ذکر۔ صورت مسئولہ میں اگر نکاح کا ایجاب وقبول دو گواہوں کی موجودگی میں کرا دیا گیا تو وہ نکاح شرعاً صحیح ہو گیا۔ اگر چہ ایجاب وقبول کرنے والا خود کلمے اور نماز وغیرہ سے ناواقف ہو اور نکاح پڑھانے والے یا انکار کرنے والے تقریر کرنے والے کسی کا نکاح نہیں ٹوٹا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔