الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح میں چھوارے بکھیرنا، اور نکاح کو رجسٹر میں درج کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں مشہور ہے کہ نکاح کی شیرنی لوٹنا سنت ہے اس بنا پر ہمارے جوار میں مجلس نکاح میں شیر نی تقسیم کرنے کے وقت طوفان بدتمیزی برپا ہوتا ہے، جس وقت مٹھائی تقسیم کرنے والا مٹھائی کا ٹوکرا اٹھاتا ہے اور دوچار آدمیوں کے ہاتھوں میں مٹھائی دیتا ہے کسی وقت مضبوط قسم کے نوجوان لڑکے ٹوٹ پڑتے ہیں، اور ہاتھا پائی ہونے لگتی ہیں بعض بڑے بچوں کو چوٹ بھی لگ جاتی ہے اور چونکہ شیرنی کھجور چھوارے بھی ہوتے ہیں بلکہ بتاشے خورے، لڈو وغیرہ مصنوعی مٹھائی ہوتی ہے اس لئے فرش پر گر کر مٹھائی پامال ہو جاتی ہے…

جواب

مولوی صاحب کا فرمانا صحیح ہے اس بد تہذیبی، اضاعت مال مسجد کی بے حرمتی سے بچنا لازم ہے اگر لوگ باز نہ آئے اور مسجد کا احترام نہ کرے تو مسجد میں نکاح کا انتظام نہ کیا جائے، ومنه الحديث أنه نثر شئى فى أملاك فلم يأخذوه فقال: مالكم لاتنتهبون؟ قالوا: أوليس قد نهيت عن النهبي؟ فقال: انما نهيت عن نهبى العساكر فانتهبوا الخ نهاية، ج ۴، ص ۱۹۹/ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو