آنکھوں پر پٹی باندھ کر نکاح
سوال
زید نے ہندہ سے دو گواہوں کے سامنے نکاح کیا لیکن ہندہ نے اپنی آنکھوں پر حیاء پٹی باندھ لی تو کیا یہ پٹی نقاب کے حکم میں ہوگی جس کے بارے میں رد المحتار وغیرہ میں لکھا ہے کہ احتیاط یہ ہے کہ چہرہ پر نقاب نہ ہو۔ یا نقاب کے حکم میں نہیں ہے اور نکاح مع جملہ احتیاطوں کے منعقد ہو جائیگا؟
جواب
اصل مقصود تعریف وتمیز ہے اگر یہ حاصل ہو جائے تو نکاح درست ہوتا ہے اگر چہ عورت مجلس عقد میں حاضر نہ ہو محض اس کا نام لیا ہو اور اگر چہ گواہ نابینا ہوں اور اگر چہ عورت نقاب پوش ہو، پس صورت مسئولہ میں اگر گواہ جانتے اور پہچانتے ہیں تو پٹی باندھنا مضر نہیں خواہ صورت و شکل سے پہچانتے ہوں یا باپ دادا کے نام سے یا محلہ اور بستی کے پتہ سے یا کسی اور ذریعہ سے اگر پٹی کی وجہ سے پہچان…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔