کپکپی کی حالت میں ایجاب وقبول کرنے سے نکاح
سوال
ایک طالب علم دین کا نکاح بطریق مسنونہ ایجاب وقبول دو گواہوں کی موجودگی میں ہوا۔ نکاح ہو جانے کے دو تین روز بعد اس طالب علم نے یہ کہا کہ جب میرا نکاح خطبہ مسنونہ کے ساتھ شروع ہوا تو فوراً میرے پورے جسم پر کپکپی طاری ہوگئی جس کی وجہ سے میرا ذہن موقع پر حاضر نہ رہا اور جب وکیل نے لڑکی اور اس کا اور اس کے باپ کا نام لیا تو مجھے کچھ پتہ نہیں۔ ہاں جب وکیل نے کہا کہ قبول کیا۔ تو میں نے حضور ذہن کے ساتھ کہا کہ میں نے قبول کیا۔ تو کیا اس صورت میں (جب کہ لڑکی اور اس کے باپ کا نام پہلے معہود فی الذہن ہے) نکاح ہوایا نہیں؟
جواب
خطبہ نکاح کے وقت اگر حواس درست نہ رہیں اور پہلے سے تمام باتیں طے ہیں اور قبول کرتے وقت بھی حواس درست ہو گئے اور سمجھ کر قبول کی نوبت آئی ہے خود قبول کیا ہو یا وکیل نے کیا ہو تو نکاح درست ہو گیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔