مہر پانچ ہزار کو ہاتھ کے نیچے چھپا کر ایجاب وقبول
سوال
خلاصہ سوال یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایک بارات بہت اچھے طریقہ سے آئی کھانا وغیرہ کے بعد باقاعدہ لکھائی پڑھائی ہوئی خطبہ پڑھا گیا سب حقوق کئے گئے مگر امام صاحب نے رجسٹر میں ۵۰۰۰/ پانچ ہزار مہر کو اپنے ہاتھ کے نیچے دبا لیا اور بعد میں کہا کہ پانچ ہزار ہوتے ہوئے باندھے گئے ہیں اس کولڑکے والوں نے منظور نہیں کیا اور بات بڑھتی چلی گئی اور بارات کو خالی جانا پڑا۔ معلوم ہوا ہے کہ لڑکی کا نکاح دوسری جگہ کر دیا گیا ہے پہلا نکاح درست تھا یا دوسرا؟
جواب
جو صورت پیش آئی وہ یقیناً رنج وافسوس کی صورت ہے اس کے باوجود اگر یہاں ایجاب وقبول نہیں ہوا تھا اور دوسری جگہ پر شریعت کے مطابق لڑکی کی اجازت ورضامندی سے نکاح کر دیا گیا تو وہ درست ہو گیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔