نابینا کے ساتھ نکاح
سوال
میری لڑکی جو کہ تقریباً ۴ سال سے بالغ ہے اس کا نکاح تقریباً ۶ سال قبل یعنی اس کے سن بلوغیت سے ۲ سال پہلے ایک لڑکے کے ساتھ ہوا تھا، نکاح جیسا کہ موجودہ مسلم معاشرہ کا خصوصاً ہمارے دیہاتوں کا دستور ہے، میں نے اپنی صواب دید پر اپنے گاؤں پڑوسیوں کے مشورہ پر لڑکے کو بغیر دیکھے کر آیا تھا، نکاح کے تقریباً ۸/ ماہ بعد جب خود لڑکے کے یہاں گیا تو معلوم ہوا کہ لڑکا بالکل نابینا ہے اور اس کو موتیا بند ہے، اور نکاح کے قبل مجھ سے یہ پوشیدہ رکھا گیا کہ لڑکے کو موتیا بند بیماری ہے، بہر حال لڑکی کے بالغ ہونے سے تقریباً دو سال قبل…
جواب
آنکھوں میں موتیا بند ہونے کے باوجود کیا ضروری ہے کہ قدرت نے اس کیلئے روزی کا دروازہ بند کر دیا ہو، اسلئے بہتر یہ ہے کہ لڑکی رخصت کر دیا جائے، اور لڑکی کو چاہئے کہ والد کے کئے ہوئے نکاح کا احترام کر کے رخصت ہو جائے لیکن اگر اس میں کامیابی نہ ہو تو مہر کے عوض طلاق حاصل کر لی جائے، پھر لڑکی کا عقد دوسری جگہ کر دیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔