کیا نکاح کے وقت والد کا نام لینا ضروری ہے
سوال
کیا نکاح میں بوقت ایجاب وقبول دلہا دلہن کے والد کا نام لینا ضروری ہے؟ بشق اول اگر نام نہیں لیا سہواً یا عمداً تو کیا نکاح پھر سے دوبارہ پڑھنا پڑے گا؟ بشق ثانی ولد الزنا یا لقطہ کا نکاح کس طرح پڑھا جائیگا؟
جواب
اگر بغیر والد کا نام لئے قاضی اور گواہ سب پہچان لیں کوئی اشتباہ نہ رہے تو بھی نکاح صحیح ہو جائے گا، مثلاً دونوں مجلس میں سامنے موجود ہوں اور گواہوں کے سامنے وہ خود ہی ایجاب وقبول کر لیں یا ان کا ولی کہہ دے کہ میں نے اس کا نکاح اس سے کر دیا، یا خاندان کے لوگوں کے سامنے نکاح ہو وہ خود جانتے ہیں، والد کا نام لینے سے مقصود تعارف ہوتا ہے، وہ جس طرح بھی ہو جائے صحیح ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔