الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زمیندارہ کے خاتمہ پر کاشتکار کو زمین کا مالک بنا دیا یہ درست ہے یا نہیں مع فتویٰ حضرت حکیم الامتؒ

سوال

۱۹۴۷ء سے قبل جبکہ ہندوستان میں انگریزی حکومت تھی، اور پاکستان کا بٹوارہ نہیں ہوا تھا، تو برطانیہ حکومت کی جانب سے زمینوں کے بارے میں یہ قانون تھا کہ جب کوئی زمیندار اپنی آراضی کو کسی کاشتکار کو بطور اجارہ یا بطور مزارعت دیدیتا، اور مذکورہ زمین جب کاشتکار کے پاس بارہ سال رہ جاتی تو وہ کاشتکار ہی اس زمین کا مالک بنا دیا جاتا، اور مالک زمین یعنی زمیندار کو زمین پر کوئی حق نہیں رہتا، اس کاشتکار کو موروثی دار کہتے ہیں، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ نے اس موروثی داری کی زمین کے بارے میں فتوی صادر فرمایا کہ کاشتکار…

جواب

اس کاشتکار کو کوئی حق شرعی حاصل نہیں ہوتا ہے، اگر ایسے کاشتکار سے کوئی خریدے گا تو وہ مشتری بھی مالک نہ ہوگا، ۱۸ ربیع الثانی ۱۳۳۱ھ۔ (کتاب الاجاره امداد الفتاوی ص ۳۵۰ / ج ۳) ۱۹۴۷ء میں ہندوستان سے انگریزی حکومت ختم ہوگئی، اور کانگریس راج قائم ہو گیا، جو کہ ایک جمہوریہ حکومت ہے، ہندو مسلم سب اس کے ارکان ہیں، ۱۹۵۰ء میں اس کانگریسی راج نے زمینداری طریقہ کو بالکل ختم کر دیا،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو