غیر مسلم کی موروثی زمین
سوال
ایک معتبر دیندار شخص نے بیان کیا غالبا فتاوی رشیدیہ کا حوالہ بھی دیا کہ حضرت قطب عالم حضرت شاہ رشید احمد صاحب گنگوہی کا فتویٰ ہے کہ ہندو کی موروثی زمین جائز ہے، مسلم کی زمین ہو تو نا جائز ہے بالکل، آیا اس بیان کی حضرت کی طرف نسبت صحیح ہے یا نہیں؟
جواب
ان سے حوالہ کی تعیین کر کے پورا پتہ دریافت کیجئے، ہمیں تو اب تک یہی معلوم ہوا ہے کہ حضرت گنگوہی نے مطلقا منع فرمایا ہے، خواہ مسلم کی ہو خواہ ہندو کی، فتاوی رشیدیہ، حصہ دوم، کتاب البیوع میں، ص ۷۸ پر کفار سے بھی سود لینے کو منع فرمایا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔