زمین کرایہ پر دینا
سوال
زید نے اپنی غرض سے اپنا ایک قطعہ کھیت چار بیگہ چار سال کے واسطے عمر کے پاس چار سو روپیہ میں رہن رکھ دیا، اور عمر سے کہہ دیا کہ چار سال کے بعد تم میرا کھیت مجھ کو دے دینا تم چار سال تک میرے کھیت سے جو کچھ بھی فائدہ اٹھاؤ اور پیداوار کھاؤ مجھ کو اس سے کوئی واسطہ اور غرض نہ ہوگا، اور جب میں اپنا کھیت تم سے لوں گا، تو تم کو کوئی پیسہ نہیں دونگا، اور تمہارے وہ چار سو روپیہ ختم ہو جائیں گے، اور میں تمہارے ان چار سو روپے سے ہی فائدہ اٹھاؤں تمہیں اس فائدہ سے کوئی غرض اور واسطہ نہ ہوگا، یہ بات قرار پا گئی، اور عہد و پیمان…
جواب
یہ رہن نہیں بلکہ اجارہ ہے، یعنی زید نے اپنی زمین چار سال کے لئے عمر کو کرایہ پر دی ہے، کہ وہ اس میں جو چاہے کاشت کرے، اور اس کا کرایہ چار سو روپیہ پیشگی وصول کر لیا، بس یہ چار سو روپے بطور اجرت زمین زید کی ملک ہو گیا، عمر کا نہیں رہا، نہ عمر کو اس کے واپس لینے کا حق رہا، اور زمین پر چار سال تک کے لئے عمر کو حق کاشت حاصل ہو گیا، اس معاملہ کا نام رہن رکھنا غلط ہے، اگر یہ رہن…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔