الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حکم موروثی / موروثی زمین اور قرض میں تمادی

سوال

(۱) سرکاری زمین جبکہ زمیندار کی زمین کوئی کاشت کرے تو بس وہ زمین کاشتکار کی ہوگئی، زمیندار اس کو چھڑا نہیں سکتا ہے، اگر کوئی کاشتکار اس زمین سے بے دخل کرادے، یعنی اپنی رضامندی سے چھوڑ دے تو ثواب ہے یا نہیں، اور اس کے نہ چھوڑنے میں کاشت کار کو گناہ ہو گا یا نہیں؟ (۲) مسئلہ یہ دریافت طلب ہے کہ سرکاری قانون ہے کہ قرض تین سال تک وصول کر سکتا ہے، یا تین سال سے زیادہ کے قرض کو ادا کرنا ثواب ہے یا نہیں، اور ادا نہ کرنے میں گناہ ہو گا یا نہیں؟

جواب

جو زمین کاشت کار نے اصل مالک سے محض کاشت کے لئے اجرت پر لی ہے، تو کاشت کرنے سے اصل مالک کی ملک سے نہیں نکلی، کاشتکار کی ملک میں داخل نہیں ہوئی، اس کی واپسی ضروری ہے، جو لوگ واپس نہیں کرتے، اور بغیر مالک کی رضا مندی کے اس پر قبضہ کئے ہوئے ہیں، اور تصرف کرتے ہیں، وہ گنہگار ہیں، جب واپس کر دیں گے، تو حقوق العباد کی ادائیگی کی وجہ سے بہت بڑی گرفت سے چھٹکارا پائیں گے، اور ثواب کے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو