الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

موروثی زمین

سوال

(۱) موروثی زمین کا ہمارے یہاں اس طرح رواج ہے کہ پہلے جب ایک مدت مقررہ تک کاشتکار کسی کھیت کو جوت لیتا تھا، تو وہ زمین موروثی ہو جاتی تھی، اور اسی مقررہ شرح سے ہمیشہ کے لئے اس کے نام بندھ جاتی تھی، اس طرح سے یہاں پر بہت سی زمینیں ہیں، تو یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ (۲) اور اب آج کل یہ قانون بن گیا ہے کہ کاشتکار قانونی ہو جاتا ہے، یعنی وہ زمین اسی کے نام بندھ جاتی ہے، اور زمیندار اس زمین کو کاشتکار سے نہیں چھڑا سکتا، جب تک کہ چوگنا لگان ادا نہ کرے، اور اگر زمیندار کاشتکار سے کھیت لینا چاہے تو اسی طرح کھیت لے سکتا ہے،…

جواب

(۱) بغیر زمیندار کی رضا مندی کے ایسی زمین میں کاشت کرنا شرعاً نا جائز ہے۔ (۲) یہ بھی نا جائز ہے۔ (۳) اس زمین اور باغ کا مالک عورت کے شوہر کا باپ ہے، اس کے بعد اس کے ورثہ مالک ہوں گے، عورت شوہر کا ترکہ ہونے کی وجہ سے مالک نہ ہوگی۔ (الف)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو