سیرداری کی زمین
سوال
کانگریس گورنمنٹ کے زمانہ میں زید کے پاس دو قسم کی زمین ہے (۱) بھوم دھری (۲) سیرداری، بھوم دھری کو بیچ کر سکتے ہیں، اور سیر داری کو بیچ نہیں کر سکتے، ان دو قسموں کو زید نے عمر کو بٹائی نصفی یا لگان پر جو تنے کیلئے دیا، اور وہ سرکاری کاغذات میں عمر کے نام درج ہوگئی، تین سال کے بعد کا غذات سے زید کا نام خارج ہو کر وہ زمین عمر کے نام ہو گئی، اور زید کے قبضہ سے نکل گئی، اور گورنمنٹ کے قانون کی بناء پر زید کو اس زمین کا کچھ معاوضہ بھی ملتا ہے، لیکن اس معاوضہ پر نہ تو زید بخوشی تیار ہے، اور نہ یہ چاہتا ہے کہ میری زمین…
جواب
اگر سرکاری قانون کے مطابق وہ زمین زید کی ملک نہیں رہی، اور عمر کی ملک ہو گئی، اور عمر اگر اس سے مستعفی ہو جائے، یا زید کو دیدے تو زید کی ملک میں آسکتی ہے، تو عمر کو مستعفی ہونا یا زید کو دیدینا لازم ہے، خود رکھنا درست نہیں ”لا یجوز لاحد من المسلمين اخذ مال احد بغير سبب شرعی کذافی البحر الرائق“ اھ (فتاوی عالمگیریه ج ۳، ص ۱۰۶)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔