موروثی چھوڑنے کا معاوضہ
سوال
میرے پاس کچھ موروثی کھیت ہیں، جن میں سے بعضوں کو زمیندار کو نذرانہ دیکر خود زمین دار سے موروثی لکھوالیا ہے، اور بعضے قانوناً موروثی ہو گئے، میں انمیں سے کوئی کھیت کسی کو کچھ روپیہ لیکر دے سکتا ہوں؟ اسطرح پر کہ میں استعفاء لکھ کر دیدونگا، اور وہ زمیندار کو راضی کر کے اپنے نام لکھوالیگا، یہ روپیہ لینا میرے لئے جائز ہوگا یا نہیں، اگر یہ صورت نا جائز ہو، تو براہِ کرم اگر کوئی صورت اس کھیت کے ذریعہ روپے حاصل کرنے کی ہو ارشاد فرمائیں؟
جواب
اس طرح روپیہ لینا جائز نہیں، موروثی لکھوا لینا بھی کافی نہیں، اگرچہ زمیندار کو نذرانہ دے کر ہو، اس قسم کے اجارہ کو فقہاء نے ناجائز لکھا ہے، اگر زمیندار سے براہ راست خریدی جائے، یا گورنمنٹ خود قبضہ کر کے زمین دار کو بے دخل کر دے، اور پھر گورنمنٹ سے حاصل کی جائے، تو ایسی زمین کو دوسرے کے ہاتھ فروخت کرنا یا کرایہ پر دینا اور روپیہ وصول کرنا شرعاً درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔