مزارع کو سکونت کا حق
سوال
ایک شخص مثلاً زید عرصہ ستر یا اسی سال سے عمر کا مزارع تھا، عمر وغیرہ نے مزارع کو کہا تھا کہ اگر تم یہیں رہو اور جائے رہائش (مکان) وغیرہ بنالو ہم تمہیں نہ اٹھائیں گے، اگر تو نے ہمیں نہ چھوڑا، چنانچہ اس مزارع نے اس چاہ پر آ کر مکان رہائش وغیرہ بنالیا اور بصورت ٹھیکہ چاہ پر کھیتی کرتا رہا، بعد میں وہ اصلی مزارع فوت ہو گیا، اور مالک بٹھانے والے بھی فوت ہو گئے، دونوں کی اولادیں رہیں، پہلی صورت پر معاملہ طے ہوتا رہا، چنانچہ مزارع کے بیٹے نے چاہ مذکور کو دس سال پر ٹھیکہ لے لیا، اور اسٹامپ بھی لکھا گیا لیکن چھ ماہ کل گزرے…
جواب
یہ ظاہر ہے کہ مالک نے مزارع کو اپنی زمین میں مکان بنانے اور رہنے کی اجازت اس لئے دی ہے کہ وہ مزارعت کرتا رہے، اور مالک اور مزارع کے درمیان معاملہ برقرار رہے، اب جبکہ مالک اور مزارع کے درمیان معاملہ برقرار نہیں رہا، بلکہ ختم ہو چکا، اور وہ زمین بھی فروخت کر دی، جس میں مزارعت کا معاملہ طے ہوا تھا، اور جس کی وجہ سے مالک نے مزارع کو رہنے کی اجازت دی تھی، اس لئے اب اس زمین میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔