الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مزارعت میں اگر تاوان ہو تو کس پر ہوگا

سوال

زید نے اپنی زمین مزروعہ کی مزارعت کا معاملہ اس صورت میں کیا کہ دو شخصوں کو زمین دی اس صورت میں کہ تمہارا صرف عمل اور زمین اور بیل و بیج میرے اور حصہ دونوں کا صرف غلہ میں ربع ہوگا، بھوسہ میں نہیں، ان دو شخصوں میں سے ایک آدمی زمین کو سرکاری نالہ سے سیراب کر رہا تھا، سیراب کنندہ کے گیارہ سالہ لڑکے نے نالہ کی دوسری شاخ میں جو دوسری قریہ کی طرف جاتی تھی، کوئی ثقیل چیز ڈال کر پانی میں رکاوٹ ڈال دی، تا کہ ان کی شاخ میں زیادہ پانی آوے، اور جلدی زمین سیراب ہو جائے، اسی اثناء میں ہندی محکمہ کے افسر نے موقع پر پکڑ لیا، اور…

جواب

جسکے فعل سے یہ تاوان پڑا ہے، اسی پر یہ تاوان پڑیگا، اس کا ذمہ دار کوئی اور شخص نہیں ہوگا، جو شخص نفس مزارعت میں شریک ہے، وہ اس تاوان میں شریک نہیں، بلکہ لڑکے کے مال سے یہ تاوان ادا کیا جاوے گا، اور اگر لڑکے کو اس کے والد نے حکم کیا، اور اس کی وجہ سے یہ صورت پیش آئی تو لڑکے کے والد پر تاوان ہوگا۔ هكذا يفهم ممافي الاشباه والنظائر۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو