غیر عربی زبان میں خطبہ
سوال
خطبہ جمعہ کا محض عربی زبان میں ہو یا اس کے ساتھ ترجمہ اور وعظ بھی ہوا گر وعظ ہو تو کیسا ہے؟ (۲) خطبہ کس قدر طویل ہو؟ (۳) عام مقتدی اگر وعظ یا ترجمہ کی طوالت سے گھبرا جائیں تو خطیب کو کیا کرنا چاہئے؟ (۴) کیا خطیب کا پابند ہونا کہ ترجمہ یا وعظ ضرور کروں گا جائز ہے، جب کہ مقتدی روک نہیں رہے ہوں؟
جواب
خطبہ محض عربی زبان میں ہونا لازم ہے اس کا ترجمہ کرنا یا اس کے ساتھ اور کسی زبان میں مستقل وعظ کہنا جائز نہیں اگر اتفاقیہ طور پر کوئی وقتی مسئلہ اثناء خطبہ میں حاضرین کو سمجھا دیا جائے تو درست ہے مولانا عبدالحی لکھنوی نے مستقل رسالہ اس مضمون پر تحریر فرمایا ہے مصفی ص ۱۵۳ / ج ۱ / شرح موطا امام مالک میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے لکھا ہے: چوں خطب آنحضرت ﷺ وخلفاء را ملاحظه کردیم…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔