خطبہ حاضرین کی زبان میں
سوال
جمعہ کا اجتماع اور حکم خطبہ مسلمانوں کے فلاح دین کا وسیلہ عظمی تھا۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ ہفتے میں ایک بار لوگوں کو ان کی حالت اور ضرورت کے مطابق اسلام و ارشاد کی دعوت دی جائے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا ایک دائمی ذریعہ، خطبہ دراصل ایک وعظ تھا جیسا کہ وعظ ہوتا ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین اور صحابہ کا بھی یہی عمل رہا اور تمام عربی حکومتیں جو اس کے بعد قائم ہوئیں ان میں بھی خلفاء اور سلاطین کو مساجد کے منبروں پر وعظ کرتے ہوئے تاریخ میں دیکھا جاسکتا ہے۔
جواب
بہتر ہے کہ اس سوال کی تفصیل اور اس کا جواب ”ماہنامہ نظام جولائی، واکتوبر میں ملاحظہ فرمالیں۔ اور پھر اس کا جواب بھی ہے۔ تاہم جواباً عرض ہے کہ قرآن کریم میں خطبہ کو ذکر اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے فاسعوا إلى ذكر الله بذکر اللہ میں اصل الفاظ وہ ہیں جو مہبط وحی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے صادر ہوئے۔ اور عربی زبان میں ہیں۔ اس لئے یہ خطبہ عربی ہی میں دیا جاتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔