تین چار ہزار کی آبادی میں جمعہ
سوال
دریائے جہلم کے کنارے دہلی روڈ پر ایک قریہ ہے جہاں ایک جامع مسجد تیار ہوئی ہے اس کے متصل بازار بھی ہے اور تقریباً بیس دکانیں ہیں، اور کچھ کاری گر بھی ہیں او وه رنفری تقریباً تین چار ہزار جمع ہو سکتی ہے، روز جمعہ اگر لوگ جمع ہوں تو ان کو تبلیغ کی جاسکتی ہے، کیا یہاں جمعہ پڑھنا جائز ہے؟
جواب
اگر اس وقت وہاں آبادی ہے اور وہ آبادی قریہ کبیرہ کی حیثیت رکھتی ہے یعنی تین ہزار کے قریب مردم شماری ہے اور روزمرہ کی ضروریات وہاں ہمیشہ ملتی ہیں بازار میں ڈاک ہے اور وہاں ہمیشہ ضرور لکھتے وہاں ہمیشہ ہی ہیں بازار میں ڈاک خانہ وغیرہ بھی ہے تو وہاں جمعہ کی نماز درست ہے اگر محض مسجد ہے اور زمانہ قدیم کی بنی ہوئی دکانیں ہیں، مگر آبادی نہیں ہے بلکہ وہ جبہ ویران ہے جیسا کہ شاہی زمانہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔