الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لوگوں کے نماز ترک کرنے کے اندیشہ سے نماز جمعہ کا قیام

سوال

یہاں ایک آبادی ہے جو کہ صد ہا سال سے آباد ہے جس میں مسلمانوں کے قریب پچاس ساٹھ گھر آباد تھے اور اس آبادی میں ایک پختہ مسجد بھی ہے جو زمانہ قدیم سے موجود ہے اس وقت موجودہ آبادی مسلمانوں کی قریب دس بارہ گھر کے ہے اور اس مسجد میں قدیم زمانہ سے نماز جمعہ ہوتی ہے اور یہیں ایک مقام ہے تین میل کے درمیان جہاں قبرستان اور مسجد وغیرہ موجود ہے اور عیدین کی نماز ہوتی ہے اور کہیں نہیں ہوتی اس وقت اس کی مردم شماری پانچ سو یا چارسو کی ہے اور یہاں پر ضروریات کی ساری چیزیں مل سکتی ہیں۔

جواب

بستی میں حنفیہ کے نزدیک جمعہ جائز نہیں بلکہ ظہر کی نماز فرض ہے اگر نماز جمعہ پڑھیں گے تو وہ نماز نفل ہو گی جو کہ جماعت سے پڑھنا اور دن میں جہر سے قراءت کر کے پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور اس سے ظہر کا فرض ذمہ سے ساقط نہ ہوگا وہ بدستور باقی رہے گا لہذا جمعہ کو موقوف کر کے ظہر کو قائم کرنا ضروری ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو