جمعہ وعید کے شرائط مفصل
سوال
یوپی کے مشرقی اضلاع کے دیہاتوں میں زمانہ قدیم سے بلا تمیز، قریہ صغيرة وكبيرة کے نماز جمعہ قائم ہوتی چلی آئی ہے، حالانکہ مسلمانوں کی آبادی بالعموم مذہب احناف کی ہے۔ کچھ عرصہ سے اہل علم طبقہ میں جب اس کا احساس ہوا کہ مذہب حنفیہ میں جمعہ کے لئے کچھ شرائط ہیں۔ جہاں وہ شرائط نہیں وہاں جمعہ جائز نہیں ہے۔ اس خیال سے اہل علم کا طبقہ اور ان کے اتباع میں اور دیندار طبقہ دیہاتوں میں جمعہ ادا کرنے سے رک گئے ہیں اور ظہر کی نماز پڑھنے لگے ہیں۔ اس کی وجہ سے کہیں کہیں خلجان کی صورت پیش آگئی۔
جواب
اتنی بات تو صاف اور مسلم ہے کہ حنفیہ کے نزدیک قریۂ صغیرہ میں جمعہ درست نہیں ہے بلکہ روزانہ کی طرح جمعہ کے روز بھی ظہر کی نماز فرض ہے اور ایسی جگہ جمعہ پڑھنے سے ظہر کا فریضہ ادا نہیں ہوگا۔ اور جس نماز کو جمعہ سمجھ کر پڑھیں گے وہ نماز نفل ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔