الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پندرہ سو کی آبادی میں جمعہ

سوال

ایک بستی فاطمی چک ہے جسکی ہندو مسلم آبادی تقریباً پندرہ سو ہے، ضرورت کی کوئی شئی فراہم نہیں، البتہ اسکے متصل دو بستیاں اور ہیں تینوں ملکر ایک معلوم ہوتی ہے، حکومت کے کاغذات میں ان کا رقبہ بالکل الگ ہے، بازار تقریباً چار میل پر ہے، مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی جارہی ہے لیکن کچھ لوگ نہیں پڑھتے، شرعی حکم سے مطلع فرمائیں، مقامی علماء کا کہنا ہے یہاں جمعہ فرض نہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ترک صلوۃ جمعہ سے لوگوں کا مستقبل گمراہ ہو جائیگا تو جب ترک نماز پنجگانہ سے گمراہ نہیں ہوتا تو نماز جمعہ کو ترک کرنے سے کیسے گمراہ ہو…

جواب

آپ کی بستی فاطمہ چک تو ظاہر ہے کہ چھوٹی بستی ہے وہاں جمعہ جائز نہیں، کیونکہ اس کی آبادی ہندو مسلم پندرہ سو ہے، ضرورت کی کوئی شئے وہاں فراہم نہیں اب دوسری دو بستیاں اگر سرکاری کاغذات میں اس کے ساتھ ملکر ایک بستی شمار ہوتی ہیں مگر دیکھنے میں الگ الگ معلوم ہوتی ہیں جیسا کہ آپ کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ بازار چار میل کی دوری پر ہے، تو بھی آپ کی بستی میں جمعہ جائز نہیں، ہاں اگر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو