عورت کے انتقال پر کوئی عورت نہ ہو تو تیمیم کر دیا جائے
سوال
عورت کے انتقال پر کوئی عورت نہ ہو تو اگر کسی مرد نے غسل کرا دیا تو گنہگار ہوگا یا نہیں، جب کہ ہاتھ میں کچھ فاصلہ بھی نہیں رکھا؟
جواب
اس کی اجازت نہیں، توبہ واستغفار لازم ہے ایسی حالت میں تیمیم کر دینے کا حکم ہے اگر محرم ہو تو بلا کپڑے کے تیمیم کرا دے، ورنہ کپڑا ہاتھ میں لپیٹ کر تیمیم کرائے: لو ماتت امرأة مع الرجال يمموها بخرقة وان وجد ذو رحم محرم يمم بلا خرقة اهـ. نور الايضاح
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔