الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا شوہر بیوی کو غسل دے سکتا ہے

سوال

بیوی کے مرنے کے بعد چونکہ شوہر سے زوجیت کا رشتہ منقطع ہو جاتا ہے اسلئے بعض کو یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب رشتہ منقطع ہو گیا تو بیوی کے مرنے کے بعد اسکا مونہہ نہیں دیکھتے نہ گھر میں اور قبر میں اور نہ بیوی کو کاندھا دیتے ہیں اور نہ بیوی کو قبر میں اتارتے ہیں اور نہ اتارتے اور نہ بیوی کو چھوتے ہیں یہ سب افعال شوہر کو بیوی کے مرنے کے بعد کرنا جائز ہے یا نہیں، کیا شوہر کا شمار بھی غیر محرم میں ہو جاتا ہے، بیوی کے مرنے کے بعد یا اسکا شمار محرم میں رہتا ہے، اور وہ سب افعال کر سکتا ہے مثلاً قبر میں اتارنا مونہہ دیکھنا،…

جواب

منہ دیکھنے کی اجازت ہے ہاتھ لگانے کی نہیں غسل دینا بھی درست نہیں، کاندھا دینا محرم اور غیر محرم سب کو درست ہے، اگر ضرورت ہو تو قبر میں اتارنا بھی شرعاً درست ہے۔ یہ حنفیہ کا مسلک ہے، شافعیہ، مالکیہ، حنابلہ کے نزدیک غسل دینا بھی درست ہے، اور ہاتھ لگانا بھی درست ہے، دلائل دونوں فریق کے پاس موجود ہیں، حنفیہ کا مسلک احتیاط کے زیادہ قریب ہے۔ کذا فی رد المحتار ص: ۵۷۵، ج:۱۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو