الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قرآن پاک کی شان میں گستاخی کرنے کا حکم

سوال

ایک شخص محمد خان نے امام صاحب کو ایک قرآن شریف کشمیری ترجمہ والا پڑھنے کے لئے دیا تھا ایک سال گزرنے کے بعد مذکور محمد خان کو کسی بات کے لئے قرآن شریف کی ضرورت پڑی اس نے عبدالستار کو کہا کہ امام صاحب کے پاس میرا قرآن شریف ہے وہ مجھے لا کر دے دو عبد الستار کو امام صاحب راستہ میں ملے اس نے امام صاحب سے قرآن شریف مانگا امام صاحب نے پیر محمد یاسین سے کہا کہ محمد خان نے مجھے قرآن شریف بخش دیا ہے اگر وہ مانگتا ہے تو وہ قرآن شریف کو (نعوذ باللہ)

جواب

قرآن شریف کی توہین کرنے سے ایمان سلامت نہیں رہتا آدمی کافر ہو جاتا ہے، لیکن مسلمان پر کفر کا فتویٰ لگانے میں جلدی نہ کی جائے جب تک اس کا مقصد متعین نہ ہو جائے یہاں امام صاحب کا مقصود قرآن پاک کی توہین کرنا نہیں بلکہ اس شخص کی توہین کرنا مقصود ہے، اگر زیور، سونا، چاندی وغیرہ کوئی چیز ہوتی تو اس کے متعلق بھی یہی کہتا ایسے موقع پر یہی مقصود ہوتا ہے کہ تم کو فلاں چیز کی حفاظت…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو