الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حضرت معاویہ کی توہین کے بعد توبہ

سوال

(۱) جو شخص اصحاب رسول اللہ ﷺ پر لعن کرنے والا ہو مثلاً امیر معاویہ کی اہانت ان لفظوں کے ساتھ کرے کہ معاویہ کو اپنی ایڑی کے برابر بھی نہیں سمجھتا، تو کیا اہلِ سنت والجماعت اسکے ساتھ برتاؤ رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ (۲) مندرجہ بالا عقیدہ والے کی کوئی صورت توبہ کی ہے یا نہیں، اگر کسی عالم کے سامنے اس عقیدہ سے توبہ کرے تو اس کے ساتھ برتاؤ رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ مدلل بحوالہ کتب تحریر فرماویں۔ بینوا توجروا

جواب

(۱) مسلمان پر لعن کرنا علی الاطلاق بڑا گناہ ہے” سباب المسلم فسوق“ رواه مسلم، اور صحابہ کرام کو گالی دینا خود موجب لعنت ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو گالی دینا اور ان کی توہین کرنا روافض کا شعار ہے، ایسا شخص دائرہ اہل سنت والجماعت سے خارج ہے، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں علامہ ابن حجر مکی نے مستقل ایک کتاب تصنیف کی ہے۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو