الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

باہمی لڑائی میں قرآن کریم کو پیروں سے روندنا

سوال

ہمارے پڑوس میں ایک موضع مونڈھیرہ ہے جہاں پر ایک مکتب چل رہا ہے پڑوس کے ایک موضع دھور ہرہ کے کچھ لوگوں میں مار پیٹ ہوئی جس میں دھور ہرہ والوں نے مونڈھیرہ والوں کو مارا اور مار کر چلے گئے گاؤں کے کچھ لوگ مدرسہ میں گھس آئے مارنا پیٹنا شروع کر دیا ایک کلاس میں درسِ قرآن چل رہا تھا وہ ہجوم اس کلاس میں گھس گیا اور مدرس محمد یوسف کو مارنا شروع کر دیا بچے بھاگ گئے قرآن کریم کو پیروں سے روند کر پھاڑ ڈالا گیا اور خون سے بھرے ہوئے نسخوں کو کنویں میں ڈالا گیا تحریر فرمائیں کہ کلام پاک کی توہین کرنے والوں کو مسلمان سمجھا جائے…

جواب

اولاً تو آپس کی لڑائی ہی نہایت مذموم ہے، پھر مکتب میں داخل ہو کر قرآن کریم کو پیروں سے روندنا اور پھاڑنا بالکل ہی وحشیانہ اور کافرانہ حرکت ہے ایسے لوگوں کو توبہ اور تجدید ایمان اور تجدید نکاح کرنا چاہئے ورنہ وہ لوگ تعلق رکھنے کے قابل نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو