جو شخص قرآن وحدیث کو نا قابل عمل بتائے اس کا حکم
سوال
ایک مسلمان کے سامنے جب خدا اور رسول اور قرآن وحدیث کا حوالہ دیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ آپ تو ان سب پرانی باتوں کو لاتے ہیں یہ دور دوسرا ہے اس دور کے لئے اس دور کے لحاظ سے باتیں لائے ایسا مسلمان قانون خداوند اور احادیث کی روشنی میں کیسا ہے؟
جواب
اگر اس کا مقصد خدا نخواستہ یہ ہے کہ قرآن وحدیث اس دور میں کارآمد نہیں ان کے اصول واحکام قابل عمل نہیں رہے اس سے زندگی کی اصلاح نہیں ہو سکتی تو ایسا شخص مسلمان نہیں معاذ اللہ۔ کذا فی الفتاوی عالمگیری۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔