حرام کو حلال سمجھنا
سوال
ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی فعل حرام کو حرام سمجھ کر کرے تو کافر نہیں ہوتا اس گناہِ کبیرہ کی وجہ سے فاسق ضرور ہو جاتا ہے مگر کسی فعل حرام کو حلال سمجھ کر مرتکب ہو تو وہ مرتکب کافر ہے کیا ہمارا یہ عقیدہ صحیح ہے۔
جواب
فعل حرام کو حرام سمجھ کر غلبہ شہوت یا سستی وغیرہ کی وجہ سے اگر کوئی مسلمان کرے تو وہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک ایمان سے خارج نہیں ہوتا جب تک حکم شریعت کا استخفاف نہ پایا جائے، والكبيرة لا تخرج العبد المومن من الايمان ولا تدخله في الكفر شرح عقائد ۸۲، اگر حرام لعینہ کو جس کی حرمت قطعی ہو حلال سمجھے گا تو کافر ہو جائیگا، والاصل ان من اعتقد الحرام حلالاً فان كان حراماً لغيره كمال…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔