الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حرام کو حلال سمجھنا

سوال

سائل کی منکوحہ کو زید نے اپنی خواہشات وحرام کاری کیلئے اغوا کر لیا اور سائل کے حق نکاح کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا نکاح باطل کر کے اپنے آپ کو مسلمان خیال کرتا ہے اور میری عورت کو جو اس پر حرام ہے حلال سمجھتا ہے، کیا ایسے شخص کی امامت، ذبح، شہادت، وغیرہ درست ہے یا نہیں؟ اور یہ شخص دائرہ اسلام سے خارج ہوا کہ نہیں؟ مسلمان ایسے شخص سے ترک موالات کریں یا نہیں اور جو شخص ایسے شخص سے ترک تعلق نہ کرے اسکے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

جانتے بوجھتے منکوحہ الغیر سے نکاح کرنا قطعاً حرام ہے، اور اس سے مباشرت کرنا زنا ہے اگر سزائے زنا کی شرائط موجود ہوں تو اس پر حد زنا جاری کی جائے، فوراً دونوں میں جدائی لازم ہے جب تک جدائی کر کے سچی توبہ نہ کرے ایسے شخص کو امام ہرگز نہ بنایا جائے، ایسے شخص کی شہادت بھی قبول نہیں ہے مگر اس پر کفر کا حکم لگانے میں جلدی نہ کی جائے، ارتکاب حرام سے مطلقاً آدمی کافر نہیں ہوتا بلکہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو