الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Избегание слова «я» в трудах учёных

سوال

ہدایہ فارسی کے دیباچہ،ص ۱۵ میں ہے صاحب ہدایہ لفظ متکلم را برائے احتراز از صیغه انانیت ذکر نه کرده است و از ”قال العبد الضعیف خود را مراد میگیرد“ (۱) صاحب ہدایہ نے انانیت سے کیوں احتراز کیا اس کا کیا سبب ہے۔ (۲) اہل علم حضرات اگر اپنی تحریروں میں صاحب ہدایہ کی طرح صیغۂ انانیت سے احتراز کریں تو یہ احتراز علماء کے نزدیک کیسا ہے؟ (۳) کیا صاحب ہدایہ کے سوا متقدمین میں سے کسی اور صاحب نے بھی ایسا احتراز کیا ہے، جیسا کہ صاحب ہدایہ نے کیا۔ بینوا وتوجروا۔

جواب

(۱) اگر انا کے بولنے اور لکھنے سے دل میں تکبیر خودی پیدا ہو یا دوسروں کو تکبر کا گمان ہو تو ایسی صورت میں مناسب یہ ہے کہ متکلم صیغہ انا سے احتراز کرے، اگر خالی الذہن ہو تو پھر احتراز کی حاجت نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے ارشاد فرمایا ہے ” قل انما انا بشر مثلکم“ الآیۃ اسی طرح احادیث میں بہت جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو صیغۂ انا سے تعبیر فرمایا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو