Сокрытие чужих недостатков, кроме предупреждения о вреде
سوال
ایک پرچہ جس کا عنوان تھا ہر مسلمان کو رات دن اس طرح رہنا چاہئے اور جس کو منجانب حضرت حکیم الامت تھانوی شائع کیا گیا تھا اس میں ص ۳۰ پر یہ لکھا ہے کہ کسی کا کوئی عیب معلوم ہو جائے تو اس کو چھپا ڈالو البتہ اگر کوئی کسی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور تم کو معلوم ہو جائے تو اس شخص سے کہہ دو اس عبارت کا کیا مطلب ہے؟
جواب
عبارت کا مطلب بالکل صاف اور واضح ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو ضرر پہنچانا چاہتا ہے تو ضررساں کے ضرر سے دوسرے شخص کو مطلع کر دیا جائے تا کہ وہ اس کے ضرر سے محفوظ رہے اور محض ذلیل کرنے کے لئے کسی کے عیب کو کھولنا جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔