الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ایک دوکان سے دوسرے کو نقصان پہنچے تو اس کی ذمہ داری

سوال

(۱) حاجی غنی احمد صاحب نے حامد علی صاحب کو دوکان قائم کرتے وقت ملازم رکھا تھا، اس وعدہ کے ساتھ کہ وہ کوئی مال اپنا دوکان پر نہ رکھیں گے، اور نہ اپنے نام سے اپنی کتابیں طبع کریں گے، دوکان ۲۷ ء میں قائم ہوئی ۵۳ ء تک وہ اس پر عمل بھی کرتے رہے، اس درمیان میں انہوں نے اپنے لڑکے خورشید علی سلمہ کو اپنے معاون کی حیثیت سے دوکان پر ملازم رکھ لیا، حاجی صاحب پر فالج کا حملہ ہوتے ہی حامد علی نے اپنے لڑکے خورشید کے نام سے کتابیں طبع کرنا شروع کر دیں، اب مستقلاً اپنا کاروبار بھی شروع کر دیا ہے، خرید و فروخت کا اس سے میرے…

جواب

(۱) یہ شرط تو صحیح ہے کہ حامد علی صاحب اپنا مال حاجی غنی احمد کی دوکان پر نہیں رکھیں گے لیکن اپنے نام سے کتابیں طبع نہ کرانے کا مطلب اگر یہ ہے کہ وہ اپنے روپیہ سے جدا گانہ نام سے کتابیں طبع نہیں کرائیں گے، تو یہ شرط صحیح نہیں ہے کہ اس شرط کی پابندی لازم نہیں، بلکہ اس شرط کو ختم کر دینا ضروری ہے، اگر یہ مطلب ہے کہ حاجی صاحب کے روپئے سے اپنے نام سے طبع نہیں کرائیں گے، تو یہ شرط…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو