ڈرائیور کا کسی کی رعایت کرنا
سوال
(۱) احقر ایک موضع پر بسلسلہ تعلیم قرآن پاک بلایا گیا ہے، بلانے والے صاحب میں ایک صاحب بس کے ڈرائیور ہیں، حیدر آباد سے احقر مع اہل وعیال و سامان کے آرہا تھا، تو اتفاق سے ان کی بس میں سوار ہونا پڑا انہوں نے کہا کہ آپ سامان وغیرہ کا ٹکٹ مت کٹوائیں، اس لئے کہ میں سرکاری ڈرائیور ہوں، اس لئے ڈپارٹمنٹ کی طرف سے میرے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں، تو احقر نے یہ مسئلہ بتایا کہ گو آپ سرکاری ڈرائیور ہوں گے، آپ کی ذات کی حد تک یہ ہو سکتا ہے، کہ گورنمنٹ کچھ چار جیز معاف کر دے لیکن جب آپ کا کوئی عزیز یا پہچانتی آدمی سفر کرے تو غالباً…
جواب
(۱) آپ کو ایسا ہی کرنا چاہئے تھا۔ (۲) لاعلمی سے یا علم کے باوجود جو شخص ناحق رعایت کرتا ہو اس کو مسئلہ بتایا بھی جائے اور ناحق رعایت حاصل کرنے سے بھی احتیاط کی جائے۔ (۳) آپ پر کوئی بار نہیں۔ (۴) ان دوسرے ڈرائیور کو اگر مالک کی طرف سے اختیار دیا گیا ہے تو درست ہے ورنہ نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔