اگر مکان مالک نہ لینا چاہے تو کس کو یہ رقم لوٹائے
سوال
بسا اوقات ایک بلڈنگ کے کئی مشترک مالک ہوتے ہیں، جن میں مسلم اور غیر مسلم سب ہی ہو سکتے ہیں، اگر ایک مالک یہ رقم نہ لینا چاہے، اور دوسرے مالک لینا چاہتے ہیں، ایسی صورت میں اختلاف ہوتا ہے، اور معاملہ خراب ہوتا ہے، ایسی صورت میں نہ لینے والا مالک اگر یہ رقم لے تو اسے خود استعمال کر سکتا ہے، یا مکان کی مرمت وغیرہ میں لگا سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر نا جائز ہونے کی صورت میں اسے اپنے طور سے واپس کرنا چاہے تو کس کو دے؟ پرانے کرایہ دار کو یا نئے کرایہ دار کو یا پھر غرباء و مساکین میں تقسیم کر دے؟
جواب
یہ رقم لے کر اس کو واپس کر دے جس سے لی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔