اصل ملازم اپنی جگہ دوسرے کو رکھوا کر اس سے کمیشن لے
سوال
زید ایک جگہ ملازم ہے وہ رخصت پر جاتا ہے، اور اپنی جگہ پر بکر کو ملازم رکھوا دیتا ہے، زید بکر کے ساتھ ایک معاہدہ کرتا ہے، وہ یہ کہ جب تم کو تنخواہ ملے اس میں سے اتنے روپے ماہوار تم مجھ کو دیا کرو، اور ساتھ ہی زید بکر کو یہ وصیت کرتا ہے، کہ یہ راز ہے اس کو کسی پر ظاہر نہ کیا جائے، بکر کو یہ خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ میں اگر اس کو معاہدے کے مطابق ماہوار روپیہ نہ دوں گا، تو یہ بجائے میرے کسی اور کو نوکر رکھوا دیگا، جو اس کو کچھ ماہوار دیا کرے، یہ مقررہ رقم بکر دیتا رہتا ہے، تا کہ نوکری بحال رہے، اب دریافت طلب امور یہ ہیں:…
جواب
(۱) زید کا بکر سے یہ معاہدہ خلاف شرع ہے۔ (۲) لے سکتا ہے۔ (۳) جائز ہے (۴) لے سکتا ہے۔ یہ اس وقت ہے جبکہ یہ رقم محض رشوت کے طور ہوا، جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے، اگر ٹھیکہ کے طور پر ہو کہ زید خواہ کام کرے، خواہ دوسرے سے کرائے تو اصل اجرت کا زید مستحق ہے، پھر وہ بکر کو جو کچھ طے کر کے دیدے بقیہ خود رکھے تو یہ درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔